📞 +92 300 2838337 ✉️ info@jamiatulibraheem.org

JAMIATUL IBRAHEEM

جامعہ ابراہیم بینر
دارالافتاء

ایک عہد ساز شخصیت ولی ،مربی،عالم و مفتی

مہتمم و رئیس دارالافتاء — جامعۃ الابراہیم

عصری ڈگری

M.A / LLB (قانون)

تخصص

الفقہ والافتاء

تصانیف و تالیفات

80 سے زائد کتب

روحانی سلاسل

4 جلیل القدر اکابر سے خلافت

1۔ ابتدائی حالات اور عصری و دینی تعلیم

حضرت مفتی صاحب مدظلہ العالی علم و عمل کا ایک ایسا سنگم ہیں جہاں اعلیٰ عصری تعلیم اور روایتی دینی علوم دونوں یکجا نظر آتے ہیں۔ آپ کی زندگی عصری اور دینی علوم حاصل کرنے والے دونوں طبقات کے لیے مشعلِ راہ ہے۔

  • پیدائش و ابتدائی تعلیم: آپ 1972ء میں ضلع بہاولپور کے تاریخی علاقے احمدپور شرقیہ میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم کے بعد میٹرک گورنمنٹ صادق عباس ہائی اسکول احمدپور شرقیہ سے اور انٹرمیڈیٹ گورنمنٹ ڈگری کالج صادق عباس (ڈیرہ نواب صاحب) سے مکمل کیا۔
  • اعلیٰ عصری تعلیم: آپ نے جامعہ کراچی سے بی۔اے اور ایم۔اے کی اسناد حاصل کیں، جبکہ قانون کی اعلیٰ ڈگری (ایل ایل بی - LLB) اردو یونیورسٹی کراچی سے مکمل کی۔
  • دینی علوم و افتاء: آپ نے ملک کے مایہ ناز دینی ادارے جامعہ دارالعلوم کراچی سے درسِ نظامی (عالم کورس) کی تکمیل کی، اور بعد ازاں جامعہ فرقانیہ کراچی سے تخصُّص فی الفقہ والافتاء کی سند حاصل کر کے مفتی کا منصب پایا۔

2۔ عظیم اساتذہ اور شیوخِ علم

اپنے علمی سفر کے دوران آپ نے عالمِ اسلام کی مقتدر اور نامور علمی شخصیات سے براہِ راست کسبِ فیض کیا، جن میں خصوصاً درج ذیل اکابر شامل ہیں:

شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب (مدظلہ العالی)
مفتی اعظم پاکستان حضرت مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی صاحب (رحمۃ اللہ علیہ)
مبلغِ اسلام حضرت مولانا طارق جمیل صاحب (مدظلہ العالی)

3۔ جامعۃ الابراہیم اور دیگر تدریسی خدمات

مفتی صاحب کی تدریسی و انتظامی خدمات کا دائرہ نہایت وسیع ہے، اور آپ کراچی کے کئی بڑے اداروں میں کلیدی علمی و انتظامی ذمہ داریاں سرانجام دے رہے ہیں:

ادارہ / مسجد عہدہ اور نوعیتِ خدمت
جامعۃ الابراہیم، کراچیمہتمم اور رئیس دارالافتاء
مرکزی مسجد ابراہیم، سرجانی ٹاؤن، کراچیامام و خطیب
جامعہ محمدیہ قائد آباد، کراچیشیخ الحدیث (استاذِ حدیث)
جامعہ مہد الفقیر، کراچیاستاذ الحدیث
جامعہ یوسف لدھیانوی شہید، کراچیرئیس دارالافتاء

ماضی کی خدمات: آپ نے ہدایہ اکیڈمی ڈیفنس کراچی سمیت دیگر کئی نامور تعلیمی مراکز میں بھی تدریسی فرائض انجام دیے۔

4۔ تصنیف و تالیف اور علمی شاہکار

اللہ تعالیٰ نے مفتی صاحب کو قلم کی جولانی اور بہترین تحقیقی صلاحیتوں سے نوازا ہے۔ اب تک مختلف دینی, فقہی، معاشرتی اور اصلاحی موضوعات پر آپ کی تصنیف و تالیف کردہ کتب کی تعداد اسی (80) سے تجاوز کر چکی ہے، جو امت کی علمی و عملی رہنمائی کا ایک بہت بڑا ذخیرہ ہے۔

5۔ روحانی تربیت اور اصلاحِ باطن (سلوک و احسان)

دینی علوم کی تدریس کے ساتھ ساتھ آپ دلوں کی دنیا آباد کرنے اور تزکیۂ نفس کے میدان میں بھی ایک ممتاز مقام رکھتے ہیں۔ آپ کو عالمِ اسلام کے درج ذیل جلیل القدر اکابرینِ اہلِ اللہ سے خلافت و اجازت حاصل ہے:

حضرت اقدس مولانا عبدالحفیظ مکی صاحب (رحمۃ اللہ علیہ)
حضرت اقدس مولانا عزیزالرحمن ہزاروی صاحب (رحمۃ اللہ علیہ)
حضرت اقدس پیر ذوالفقار احمد نقشبندی مجددی صاحب (مدظلہ العالی)
حضرت اقدس مولانا محمد الیاس گھمن صاحب (مدظلہ العالی)

6۔ جدید ذرائع ابلاغ اور رفاہی خدمات

عصرِ حاضر کے تقاضوں اور نوجوان نسل کی رہنمائی کے لیے مفتی صاحب ڈیجیٹل میڈیا کا بہترین اور مثبت استعمال کر رہے ہیں:

آفیشل یوٹیوب چینل (YouTube Channel)

آپ کا یوٹیوب چینل چوبیس گھنٹے فعال رہتا ہے۔ اس ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے ذریعے روزمرہ کے شرعی مسائل کے جوابات، دینی و اخلاقی رہنمائی، اور خوابوں کی مستند تعبیر کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔

رفاہی و فلاحی خدمات:

علم و تدریس کے ساتھ ساتھ آپ کا روشن کردار خدمتِ خلق سے بھی عبارت ہے۔ آپ کی زیرِ سرپرستی فلاحی اور رفاہی منصوبے کامیابی سے چل رہے ہیں جس سے روزانہ ہزاروں مستحقین فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ بھوک مٹانے، یتیموں کی کفالت اور تعلیم و صحت کے میدان میں آپ کی خدمات قابلِ تحسین ہیں۔